وزیراعلیٰ کے زیر صدارت امن و امان کے حوالے سے اعلی سطح اجلاس، پولیس میں 9 ہزار بھرتیاں، 15 ارب سے زائد فنڈز جاری، رمضان میں خصوصی سیکیورٹی اقدامات کا فیصلہ
پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیرِ صدارت صوبے میں امن و امان کے حوالے سے گزشتہ رات ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبے میں امن و امان کی موجودہ صورتحال اور امن و امان کی بہتری کے لیے جاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور آئندہ کے لائحہ عمل پر غور و خوض کیا گیا۔وزیراعلیٰ نے اس موقع پر امن و امان کے قیام پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہ کرنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ عوام کے جان و املاک کا تحفظ صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری پولیس فورس ، محکمہ انسداد دہشت گردی اور اسپیشل برانچ کے افسران اور اہلکاروں کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں اور پوری قوم کو ان پر فخر ہے۔ تاہم وزیر اعلیٰ نے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی کے حالیہ واقعات مزید مو ¿ثر اور جامع اقدامات کے متقاضی ہیں، لہٰذا متعلقہ محکمے جامع اور واضح حکمت عملی کے تحت آگے بڑھیں،
صوبائی حکومت درکار وسائل کی فراہمی یقینی بنا رہی ہے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی کمی آڑے نہیں آنے دے گی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہماری سیکیورٹی فورسز دہشت گردی کا اولین صف میں مقابلہ کر رہی ہیں، ہم انہیں کسی کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑیں گے اور ان کی پیشہ ورانہ ضروریات ترجیحی بنیادوں پر پوری کریں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کوئی باہر سے آ کر ہمارے مسائل حل نہیں کرے گا، ہمیں صورتحال سے خود ہی نمٹنا ہے اور اس مقصد کے لیے دستیاب وسائل کا مو ¿ثر استعمال یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس قابل افرادی قوت موجود ہے جس پر ہمیں بھرپور اعتماد ہے، اس لیے امن و امان پر بھرپور توجہ مرکوز کی جائے، صوبائی حکومت ہر سطح پر آپ کے ساتھ کھڑی ہے۔اجلاس میں رمضان المبارک کے دوران ختم القرآن اجتماعات کی سیکیورٹی کے لیے خصوصی اقدامات کی ہدایت کی گئی۔
وزیراعلیٰ نے محکمہ پولیس میں خالی آسامیوں کو جلد پر کرنے اور فورسز کے لیے طے شدہ ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی۔ اجلاس میں اس بات سے اتفاق کیا گیا کہ خیبرپختونخوا کو بھی ہارڈ ایریا قرار دیا جانا چاہیے اور فیصلہ کیا گیا کہ یہ معاملہ وفاق کے ساتھ دوبارہ اٹھایا جائے گا۔وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے دہشت گردی سے متاثرہ اہلکاروں کے لیے مصنوعی اعضاء( آرٹیفیشل لمبز) کی فراہمی کے ضمن میں باقاعدہ پالیسی وضع کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ قوم کے لیے خود کو خطرے میں ڈالنے والے نوجوانوں کی ہر ممکن معاونت کی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ نے امن و امان کی موجودہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم کے ساتھ ملاقات اور دیگر فورمز پر موجودہ حالات پر بات کی گئی مگر ان معاملات کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قومی مسائل پر توجہ نہیں دی جا رہی ،یوں لگتا ہے کہ عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف کی سیاست کو ختم کرنا ہی ان کا واحد مقصد رہ گیا ہے۔ اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ صوبائی حکومت دستیاب وسائل کے مطابق حالات کی بہتری کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھا رہی ہے اور رواں مالی سال اب تک محکمہ پولیس کو خریداری کی مد میں 15.1 ارب روپے جاری کیے جا چکے ہیں۔ مزید بتایا گیا کہ محکمہ پولیس میں نو ہزار سے زائد آسامیوں پر بھرتی کے ٹیسٹ ہو چکے ہیں اور عید سے پہلے بھرتی کا عمل مکمل کر لیا جائے گا۔
اجلاس کو یہ بھی بتایا گیا کہ سیف سٹی پراجیکٹ پشاور باضابطہ افتتاح کے لیے تیار ہے جبکہ ڈیرہ اسماعیل خان، بنوں اور لکی مروت کے سیف سٹی پراجیکٹس مارچ تک مکمل ہو جائیں گے۔ اسی طرح کرک، ٹانک اور شمالی وزیرستان کے سیف سٹی پراجیکٹس کی ابتدائی دستاویز (پی سی ون) محکمہ داخلہ کو ارسال کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ضم شدہ اضلاع کے سیف سٹی پراجیکٹس کا پی سی ون تیار ہے تاہم یہ منصوبہ نئے مالی سال میں شامل کیا جائے گا۔ اجلاس میں مزید آگاہ کیا گیا سیف سٹی اتھارٹی ایکٹ کا مسودہ بھی محکمہ داخلہ کو بھجوا دیا گیا ہے۔
اجلاس میں محکمہ ایکسائز اور دستک کے معلوماتی ریکارڈ، بی آر ٹی، بلدیاتی اداروں اور محکمہ تعلیم کے سی سی ٹی وی کیمروں کو سیف سٹی پراجیکٹ کے ساتھ منسلک کرنے کا اصولی فیصلہ کیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے اس مقصد کے لیے متعلقہ محکموں کا اجلاس بلا کر عملی اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت کی اور کہا کہ سیف سٹی منصوبہ وقت کی اہم ضرورت ہے، تاہم منصوبے سے مطلوبہ نتائج کے حصول کے لیے عوام کو آگاہ کرنا بھی ناگزیر ہے۔اجلاس کے اختتام پر وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے امن و امان سے متعلق ہفتہ وار اجلاس منعقد کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا کہ صورتحال کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جائے گا اور پیش رفت کی مسلسل نگرانی یقینی بنائی جائے گی۔
.
دریں اثنا وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے پاک افغان سرحد پر حالیہ کشیدگی کو تشویشناک قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ صورتحال کا بغور جائزہ لے رہے ہیں، پاکستان کے ایک ایک انچ کی حفاظت ہم سب کا قومی فریضہ ہے، کسی کو سرحدی علاقوں کی سلامتی پر سمجھوتہ نہیں کرنے دیں گے۔ پاک افغان سرحدی صورتحال پر یہاں سے جاری ایک اہم بیان میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پاک افغان سرحد پر کسی بھی قسم کی اشتعال انگیزی اور بیرونی جارحیت کی مذمت کرتے ہیں، قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ وزیر اعلیٰ کا مزید کہنا تھا کہ وہ پاک افغان کشیدگی کے تناظر میں متعلقہ اداروں سے مسلسل رابطے میں ہیں، سرحدی علاقوں کے عوام کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس سلسلے میں ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ پاک افغان کشیدگی کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال پر عوامی خدشات سے آگاہ ہیں اور سرحدی علاقوں کے عوام کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ وزیر اعلیٰ نے کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے انتظامیہ کو الرٹ رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ امن و استحکام کے لیے ذمہ دارانہ طرز عمل ناگزیر ہے۔
https://chitraltimes.com/cm-kp-chaired-meeting-on-security-issues
