خیبر پختونخوا کابینہ کا اجلاس، صحت، گندم پالیسی اور فلاحی منصوبوں کی منظوری دیدی گئی
پشاور(نمائندہ چترال ٹائمز ) وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت خیبر پختونخوا کابینہ کا 48واں اجلاس منعقد ہوا۔ وزیر اعلیٰ نے اسلام آباد سے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں کابینہ اراکین، چیف سیکرٹری، ایڈیشنل چیف سیکرٹریز، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو، انتظامی سیکرٹریز اور ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا نے شرکت کی۔
اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان نے بتایا کہ کابینہ نے صحت کے شعبے میں انسانی وسائل کی ہنگامی ضروریات پوری کرنے کے لیے 4 ارب 6 کروڑ 51 لاکھ 20 ہزار روپے کی منظوری دی ہے۔ کابینہ نے صوبے بھر بشمول ضم شدہ اضلاع سرکاری صحت مراکز میں سروس ڈیلیوری بہتر بنانے کے لیے میڈیکل آفیسرز، ڈینٹل سرجنز اور نرسز کی 2,439 فکسڈ پے آسامیوں کی تخلیق کی منظوری دی۔
کابینہ نے محکمہ صحت کو ہدایت کی کہ ان آسامیوں پر بھرتی ڈویژنل سطح کی محکمانہ سلیکشن کمیٹیوں کے ذریعے واک اِن انٹرویوز کے تحت کی جائے، جیسا کہ خیبر پختونخوا ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کنٹریکٹ اپائنٹمنٹ آف ڈاکٹرز فکسڈ پے رولز 2022 (ترمیم شدہ 2025) میں درج ہے، تاکہ صوبے میں صحت کی خدمات کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
کابینہ نے خیبر پختونخوا ویگرنسی کنٹرول اینڈ ری ہیبلیٹیشن بل 2025 کو صوبائی اسمبلی میں پیش کرنے کی منظوری بھی دی۔ مجوزہ قانون گداگری کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے حقوق پر مبنی جدید فریم ورک متعارف کراتا ہے، جس میں منظم اور جبری بھیک مانگنے کو شامل کرتے ہوئے کمزور افراد اور مجرمانہ نیٹ ورکس کے درمیان واضح فرق کیا گیا ہے۔ بل میں بھیک مانگنے میں ملوث بچوں کے تحفظ، استحصالی سرگرمیوں پر سزاؤں اور پالیسی ہم آہنگی کے لیے صوبائی اسٹیئرنگ کمیٹی کے قیام کی شقیں بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بحالی، ہنر مندی پروگرامز اور نان لیپس ایبل ری ہیبلیٹیشن فنڈ کے قیام کی بھی منظوری دی گئی ہے۔
کابینہ نے ہائیبرڈ ویٹ پروکیورمنٹ اینڈ اسٹریٹیجک ریزروز پالیسی 2026 کی منظوری دی، جس کے تحت سرکاری اجارہ داری پر مبنی گندم خریداری نظام سے بتدریج مارکیٹ بیسڈ معیشت کی جانب منتقلی کی جائے گی، جبکہ اسٹریٹیجک ذخائر برقرار رکھ کر غذائی تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔ اس پالیسی سے صوبائی خزانے پر مالی بوجھ میں کمی متوقع ہے۔
کابینہ نے 38 ارب 4 کروڑ 20 لاکھ روپے کی گندم خریداری واجبات وفاقی حکومت کے ساتھ 41 ارب 97 کروڑ روپے کے پاسکو واجبات کے مقابل ایڈجسٹ کرنے کی منظوری دی، جبکہ بقیہ 3 ارب 92 کروڑ 80 لاکھ روپے پاسکو کے حق میں ادا کیے جائیں گے۔
اجلاس میں وزیر اعلیٰ ڈیجیٹل انکلوژن پروگرام برائے اقلیتی طلبہ کے تحت بی ایس، ایم بی بی ایس، انجینئرنگ، ایم فل، ایم ایس اور پی ایچ ڈی پروگرامز میں زیر تعلیم اقلیتی طلبہ کو لیپ ٹاپ فراہم کرنے کے لیے 19 کروڑ 60 لاکھ روپے گرانٹ اِن ایڈ کی منظوری دی گئی۔
کابینہ نے خواتین کو کام کی جگہ پر ہراسانی سے تحفظ کے قانون 2010 میں مجوزہ ترامیم، پانچ ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں بریسٹ اسکریننگ سنٹرز کے قیام، اپر چترال میں نرسنگ کالج کے قیام کے لیے 15 کنال اراضی کی منتقلی اور سرائے نورنگ ضلع لکی مروت میں ویمن اینڈ چلڈرن ہسپتال منصوبے کی لاگت میں اضافے کی منظوری بھی دی۔
اس کے علاوہ کوہاٹ روڈ پشاور پر لیڈیز اینڈ چلڈرن پارک کے لیے اراضی کی فراہمی، پشاور ڈیرہ اسماعیل خان موٹروے کے لیے اراضی ایکوزیشن کی فنڈنگ، ضلع ہنگو میں جوڈیشل کمپلیکس کی توسیع کے لیے 29 کنال 9 مرلہ سرکاری اراضی کی منتقلی اور ضلع خیبر میں 6,505 متاثرہ خاندانوں تک تیراہ ماڈل مالی معاونت پیکیج کی توسیع کی منظوری دی گئی۔
کابینہ نے پرائیویٹ پاور اینڈ انفراسٹرکچر بورڈ میں نجی شعبے کے نمائندے کی نامزدگی کی بھی منظوری دی۔
https://chitraltimes.com/kp-cabinet-meeting-chaired-by-cm-kp-2
